SHIA NATION

SHIA NATION

The largest Shia Platform

Menu

اسلامی تاریخ

حضرت امام علی رضا علیہ السلام: پیکرِ شجاعت، عالمِ آلِ محمدؐ اور داستانِ شہادت

شیعہ نیشن

مصنف

17 Dec 2025

تاریخ

تاریخ اسلام کے افق پر ائمہ اہل بیت علیہم السلام وہ درخشاں ستارے ہیں جنہوں نے ہر دور میں ظلم کی تاریکیوں کو اپنے نورِ ہدایت سے مٹایا۔ ان ہی پاکیزہ ہستیوں میں سے آٹھویں تاجدارِ امامت، حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے، جو علم، حلم، عبادت اور شجاعت کا ایسا بہترین نمونہ ہیں جن کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپ کو "عالمِ آلِ محمدؐ" اور "غریب الغرباء" جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔


اس تفصیلی مضمون میں ہم امامِ ہشتم علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ، آپ کی منفرد شجاعت اور المناک شہادت کے واقعات کا جائزہ لیں گے، تاکہ ہم ان کی سیرت سے درس لیتے ہوئے اپنی زندگیوں کو سنوار سکیں۔


ولادتِ باسعادت اور ابتدائی پرورش

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت 11 ذیقعدہ 148 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کے والدِ گرامی ساتویں امام، حضرت باب الحوائج امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہیں اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نامی جنابِ نجمہ خاتون (س) ہے، جو اپنے وقت کی عابدہ اور زاہدہ بیبیوں میں شمار ہوتی تھیں۔


آپ کی پرورش اس گھرانے میں ہوئی جہاں قرآن کی تلاوت، علم کی روشنی اور اللہ کی بندگی کے سوا کچھ نہ تھا۔ بچپن ہی سے آپ کے چہرہ مبارک سے امامت کا نور جھلکتا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ اپنے والدِ بزرگوار کے سایہ عاطفت میں گزارا، جہاں آپ نے صبر و استقامت کا وہ درس لیا جو آگے چل کر آپ کی زندگی کا طرہ امتیاز بنا۔


دورِ امامت اور سیاسی حالات

امام علی رضا علیہ السلام کی امامت کا آغاز انتہائی پرآشوب دور میں ہوا۔ جب آپ کے والدِ گرامی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو ہارون رشید کے قید خانے میں زہر دے کر شہید کیا گیا، تو امامت کا بھاری بوجھ 35 برس کی عمر میں آپ کے کاندھوں پر آیا۔ یہ وہ دور تھا جب عباسی خلافت اپنے ظلم و جبر کے عروج پر تھی۔ ہارون رشید کے بعد اس کے بیٹوں امین اور مامون کے درمیان اقتدار کی جنگ چھڑ گئی، جس کے نتیجے میں مامون الرشید تخت نشین ہوا۔


مامون عباسی خلفاء میں سب سے زیادہ مکار اور سیاست دان سمجھا جاتا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ آلِ محمدؐ کی محبت لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکی ہے اور اگر اس نے امام علی رضا (ع) کو کھلا چھوڑا تو اس کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا، اس نے ایک گہری سازش تیار کی جسے "ولایتِ عہدی" کا نام دیا گیا۔


امام علی رضا (ع) کی شجاعت: تلوار سے قلم اور کلام تک

جب ہم لفظ "شجاعت" سنتے ہیں تو ہمارا ذہن میدانِ جنگ کی طرف جاتا ہے، لیکن ائمہ اہلبیت (ع) کی شجاعت کے کئی رنگ ہیں۔ امام علی رضا علیہ السلام کی زندگی میں شجاعت کا پہلو انتہائی منفرد اور گہرا ہے۔


1. حق گوئی کی شجاعت

مامون الرشید اس وقت کا طاقتور ترین حکمران تھا، جس کی سلطنت مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا سب سے بڑی شجاعت ہے۔ جب مامون نے آپ کو زبردستی مدینہ سے خراسان (مرو) بلایا اور ولی عہد بننے کی پیشکش کی، تو امام (ع) نے انکار کر دیا۔ آپ نے واضح کیا کہ میں اس دنیاوی اقتدار کا بھوکا نہیں ہوں۔ جب مامون نے قتل کی دھمکی دی تو آپ نے مجبوری میں ولایت عہدی قبول کی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ "میں حکومت کے کسی انتظامی معاملے، کسی کو رکھنے یا ہٹانے، اور فیصلے کرنے میں مداخلت نہیں کروں گا۔"


یہ شرط بذاتِ خود ایک سیاسی شجاعت تھی، جس نے مامون کی اس سازش کو ناکام بنا دیا کہ وہ امام کو حکومت کا حصہ بنا کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔ امام (ع) نے ثابت کر دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ الگ تھلگ ہیں اور یہ عہدہ محض ایک مجبوری ہے۔


2. علمی شجاعت اور مناظرے

مامون نے امام (ع) کو نیچا دکھانے کے لیے دنیا بھر سے مختلف مذاہب (عیسائی، یہودی، زرتشتی، صابی) کے بڑے بڑے علماء کو اکٹھا کیا اور مناظروں کا اہتمام کیا۔ اس کا خیال تھا کہ شاید کسی مسئلے میں امام (ع) لاجواب ہو جائیں گے تو عوام کی نظروں میں ان کا مقام کم ہو جائے گا۔


لیکن "عالمِ آلِ محمدؐ" نے اپنی علمی شجاعت کے جوہر دکھائے۔ آپ نے عیسائیوں کو انجیل سے، یہودیوں کو توریت سے اور زرتشتیوں کو ان کی کتابوں سے ایسے دلائل دیے کہ تمام علماء دنگ رہ گئے۔ جاثلیق (عیسائی عالم) اور راس الجالوت (یہودی عالم) نے بھری محفل میں اپنی شکست تسلیم کی اور امام (ع) کے علم کے سامنے سر جھکا دیا۔ یہ علمی فتح تلوار کی فتح سے کہیں زیادہ بڑی تھی جس نے اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا۔


سفرِ خراسان اور حدیثِ سلسلۃ الذہب

جب مامون کے حکم پر امام رضا (ع) کو مدینہ چھوڑنا پڑا، تو وہ منظر انتہائی دردناک تھا۔ آپ نے روضہ رسولؐ سے الوداع کیا اور اپنے اہل و عیال کو بتا دیا کہ میں اس سفر سے واپس نہیں آؤں گا۔


دورانِ سفر جب آپ کا قافلہ نیشاپور پہنچا، تو ہزاروں قلم کار اور محدثین جمع ہو گئے۔ انہوں نے امام (ع) سے حدیث بیان کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر آپ نے اپنے آباء و اجداد کے واسطے سے اللہ کا کلام بیان کیا جسے "حدیثِ سلسلۃ الذہب" (سونے کی زنجیر والی حدیث) کہا جاتا ہے۔


آپ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ حِصْنِي فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِي أَمِنَ مِنْ عَذَابِي"
(کلمہ لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو میرے اس قلعہ میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو گیا۔)

جب سواری چلنے لگی تو آپ نے سر باہر نکالا اور فرمایا:

"بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا"
(لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں اور میں ان شرطوں میں سے ایک ہوں۔)

یہاں امام (ع) نے توحید کے ساتھ "ولایت" کو جوڑ کر یہ واضح کر دیا کہ اللہ کی توحید کا اقرار تب ہی مکمل اور قابلِ قبول ہے جب وہ زمانہ کے امام کی معرفت اور اطاعت کے ساتھ ہو۔ یہ اعلان مامون کی حکومت کے منہ پر طمانچہ تھا اور امام کی بے مثال جرات کا مظہر تھا۔


اخلاقِ حسنہ اور عوام سے محبت

بادشاہ کے دربار میں رہنے کے باوجود، امام علی رضا علیہ السلام کا رہن سہن فقیرانہ تھا۔ آپ کا دسترخوان ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ روایت میں ہے کہ ایک بار کھانا کھاتے وقت آپ نے اپنے تمام غلاموں، یہاں تک کہ اصطبل کی صفائی کرنے والے حبشی غلام کو بھی اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھایا۔ کسی نے کہا کہ مولا! ان کے لیے الگ انتظام کر دیتے۔


آپ نے فرمایا:

"ہمارا رب ایک ہے، ہمارے ماں باپ (آدم و حوا) ایک ہیں، اور فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔"

آپ اکثر راتوں کو بھیس بدل کر غریبوں کی مدد کرتے۔ لوگ آپ کو "امامِ ضامن" کہتے ہیں کیونکہ آپ کی پناہ میں آنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک ہرنی نے شکاری سے بچنے کے لیے آپ کی پناہ لی تھی، جس پر شکاری نے توبہ کی اور اسے آزاد کر دیا۔


شہادتِ عظمیٰ: سازش اور زہر

مامون الرشید اپنی تمام تر سازشوں میں ناکام ہو چکا تھا۔

  1. وہ امام کو دنیا پرست ثابت نہ کر سکا۔
  2. علمی مناظروں میں امام کی شہرت مزید بڑھ گئی۔
  3. نمازِ عید کے موقع پر جب امام (ع) نکلے تو عوام کا جوش و خروش دیکھ کر مامون ڈر گیا اور اسے امام کو راستے سے واپس بلانا پڑا۔


ان حالات نے مامون کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں اس کی حکومت ختم نہ ہو جائے۔ آخرکار اس بدبخت نے وہی کیا جو اس کے آباؤ اجداد کا شیوہ تھا۔ اس نے دھوکے سے امام علیہ السلام کو زہر دینے کا منصوبہ بنایا۔


روایات کے مطابق، 17 صفر (یا بعض روایات میں آخرِ صفر) 203 ہجری کو مامون نے انگوروں یا انار کے جوس میں زہر ملا کر امام علیہ السلام کو پیش کیا۔ امام (ع) جو کہ علمِ امامت سے جانتے تھے، انکار نہ کر سکے کیونکہ انکار کی صورت میں فوراً قتل کا خدشہ تھا اور اس طرح وہ مقصد فوت ہو جاتا جس کے لیے آپ صبر کر رہے تھے۔


زہر جسمِ اطہر میں سرایت کر گیا۔ آپ کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ آپ اپنے حجرے میں تشریف لائے اور تڑپنے لگے۔ اس وقت آپ کے فرزندِ ارجمند حضرت امام محمد تقی (ع) معجزانہ طور پر مدینہ سے خراسان پہنچے (طی الارض کے ذریعے) اور اپنے والدِ گرامی کے سر کو گود میں لیا۔ آخری وصیتیں کیں اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔


مشہد مقدس: فرشتوں کی زیارت گاہ

آپ کی شہادت کے بعد مامون نے دکھاوے کے لیے بہت واویلا کیا اور آپ کو سناباد (موجودہ مشہد) میں ہارون رشید کی قبر کے پاس دفن کیا۔ لیکن اللہ کا نظام دیکھیں کہ آج ہارون کا نام لیوا کوئی نہیں، جبکہ اسی جگہ پر ایک عظیم الشان روضہ قائم ہے جو "مشہدِ مقدس" کہلاتا ہے۔


آج مشہد میں کروڑوں زائرین، شیعہ و سنی اور غیر مسلم، اپنی حاجات لے کر آتے ہیں اور "یا امام ضامن" کی صداؤں سے ماحول گونجتا ہے۔ وہ "غریب الغرباء" آج بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔


امام علی رضا (ع) کی زندگی سے اسباق

بطور شیعہ مسلمان، امام علی رضا (ع) کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے:

  1. علم کی اہمیت: ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے عقائد کا دفاع کر سکیں۔
  2. اصول پر سمجھوتہ نہ کرنا: چاہے جان چلی جائے لیکن حق کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔
  3. اخلاق و کردار: ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ ہمیں دیکھ کر لوگ کہیں کہ یہ امام رضا (ع) کے ماننے والے ہیں۔
  4. راضی بہ رضائے الٰہی: امام کا لقب "رضا" اس لیے ہے کہ آپ اللہ کی رضا پر ہمیشہ راضی رہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔


اختتامیہ

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زندگی جہاد، علم، اور صبر کا ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ آپ نے اپنی حکمت اور تدبر سے عباسی خلافت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا اور اسلامِ حقیقی کی حفاظت کی۔ آپ کی شہادت ایک ایسا سانحہ ہے جس پر آج بھی آنکھیں اشکبار ہیں۔


ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں امام علی رضا علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور روزِ محشر ہمیں ان کی شفاعت نصیب کرے۔ (آمین)


سلام ہو آپ پر اے غریب الغرباء!

سلام ہو آپ پر اے معین الضعفاء!

سلام ہو آپ پر اے وارثِ انبیاء!