Golden Sayings of the Ahlul Bayt (A.S)
ہر گناہ کے لیے توبہ پیدا کی گئی ہے، چھپی باتوں کی توبہ چھپی ہی ہو اور علانیہ باتوں کی توبہ علانیہ
انسان کی زبان روزانہ صبح کو اعضائے بدن کی خیریت دریافت کرتی ہے۔ اعضاء کہتے ہیں: اگر تو ہمیں چھوڑ دے (اور خاموش رہے) تو ہم ٹھیک ہیں؛ وہ خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ ہمارے معاملے میں اللہ سے ڈر، کیونکہ ہم تیری وجہ سے ہی عذاب میں مبتلا ہوں گے اور تیری ہی وجہ سے نجات پائیں گے
میں نے تمام خیر اور بھلائی کو اس بات میں پایا کہ انسان لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے اپنی امیدیں کاٹ لے (اور صرف اللہ سے امید رکھے)
مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو موت سے ڈرتا ہے لیکن گناہوں سے نہیں بچتا، اور مجھے اس پر تعجب ہوتا ہے جو دنیا کے مال کے لیے پریشان ہوتا ہے لیکن آخرت کے ثواب کی پروا نہیں کرتا
مومن اپنے بھائی کے لیے جو دعا اس کی غیر موجودگی (پیٹھ پیچھے) میں کرتا ہے، وہ ضرور قبول ہوتی ہے
بلاشبہ کنجوس وہ ہے جو اس چیز (مال) کو خرچ کرنے میں بخل سے کام لے جسے اللہ نے اس پر واجب کیا ہے
اگر مشرق و مغرب کے درمیان رہنے والے تمام لوگ مر جائیں تب بھی مجھے کوئی خوف و وحشت نہ ہوگی اگر قرآن میرے ساتھ ہو
جو شخص بغیر علم و معرفت کے عمل کرتا ہے، وہ اس مسافر کی طرح ہے جو غلط راستے پر چل رہا ہو؛ پس چلنے کی رفتار اسے منزل سے دور ہی کرتی جائے گی
اور تمہاری ماں کا حق یہ ہے کہ تم یہ جان لو کہ اس نے تمہیں (اپنے پیٹ میں) وہاں اٹھایا جہاں کوئی کسی کو نہیں اٹھاتا، اور اپنے دل کا پھل تمہیں کھلایا جو کوئی کسی کو نہیں کھلاتا
جھوٹ سے پرہیز کرو، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، سنجیدگی میں ہو یا مذاق میں۔ کیونکہ جب انسان چھوٹا جھوٹ بولتا ہے تو پھر بڑے جھوٹ بولنے کی بھی جرات کرنے لگتا ہے
سچا کرم یہ ہے کہ بغیر مانگے دیا جائے
جو عزت چاہتا ہے وہ اسے اللہ کی اطاعت سے طلب کرے
میں نے کبھی کسی کو رسول اللہﷺ سے اس قدر مشابہت والا نہیں دیکھا جتنا حسینؑ بن علیؑ کو دیکھا
خدا کی قسم! اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے باپ علی مجھ سے کسی چیز پر راضی ہوں گے تو میں وہ ضرور کروں گا چاہے اس میں میری ہلاکت ہی کیوں نہ ہو
میں عباس ہوں، پانی اپنے ہاتھ میں روکتا ہوں اور خود نہیں پیتا جب تک میرا بھائی حسینؑ نہ پی لے
علم کا مطالعہ عقل کو نکھارنے کا سبب ہے اور لمبی عمر (کے تجربات) سے عقل میں اضافہ ہوتا ہے
رزق تو مقدر ہو چکا ہے، لہٰذا اس کے حصول میں انسان کا خوبصورت رویہ اختیار کرنا (یعنی حلال و حرام کا خیال رکھنا اور حرص نہ کرنا) زیادہ بہتر ہے
مومن نہ کسی کو طعنہ دیتا ہے، نہ جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی غیبت کرتا ہے
جو شخص کسی چیز (مقصد) کو پانے کے لیے اللہ کی نافرمانی (گناہ) کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ اپنی امید سے بہت جلد محروم ہو جاتا ہے اور جس خطرے سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے، اس میں بہت جلد گرفتار ہو جاتا ہے
آگاہ رہو کہ بدکار ابن بدکار نے مجھے دو چیزوں کے درمیان لا کھڑا کیا ہے: تلوار (جنگ) یا ذلت (بیعت)۔ اور ذلت ہم سے بہت دور ہے (ہیہات منا الذلہ)
سچائی عزت ہے، جھوٹ عاجزی و ناتوانی ہے، راز امانت ہے، پڑوسی قرابت دار ہے اور مدد کرنا فطرت ہے
سب سے زیادہ عاجز انسان وہ ہے جو دعا مانگنے سے عاجز ہو، اور سب سے بڑا کنجوس وہ ہے جو سلام کرنے میں کنجوسی کرے
اے اللہ! جس نے تجھے کھو دیا اس نے کیا پایا؟ اور جس نے تجھے پا لیا اس نے کیا کھو دیا؟
(مومن کی نشانی یہ ہے کہ) وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتا جس کی اسے معذرت (معافی) کرنی پڑے، جبکہ منافق روزانہ برائی کرتا ہے اور روزانہ معذرت کرتا ہے
عقل اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ حق کی پیروی نہ کی جائے
میں نے سرکشی، تکبر یا فساد پھیلانے اور ظلم کرنے کے لیے قیام نہیں کیا، میں تو صرف اپنے نانا (ص) کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں
سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے جو ایسے شخص کو عطا کرے جس سے اسے کسی قسم کے بدلے کی امید نہ ہو
یاد رکھو! لوگوں کا تمہارے پاس اپنی حاجتیں اور ضرورتیں لے کر آنا تم پر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ لہٰذا اللہ کی ان نعمتوں سے اکتا نہ جاؤ ورنہ یہ نعمتیں تم سے چھین لی جائیں گی)
میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ذلت و بربادی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا
لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش آؤ جس طرح تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ پیش آئیں
بے شک اس قرآن میں ہدایت کے چراغ ہیں اور دلوں کی (روحانی) بیماریوں کا علاج ہے
تمہارا بہترین دوست وہ ہے جو تمہیں نیکی کی راہ دکھائے اور برائی سے روکے
دنیا کے لیے اس طرح عمل کرو جیسے تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، اور آخرت کے لیے اس طرح عمل کرو جیسے تمہیں کل ہی مر جانا ہے
سخاوت یہ ہے کہ مانگنے والے کے مانگنے سے پہلے عطا کر دیا جائے، مانگنے کے بعد دینا تو محض شرم اور بدگوئی سے بچنے کا نام ہے
کوئی قوم ایسی نہیں جس نے (معاملات میں) مشورہ کیا ہو اور اسے درست اور بہترین راہ نہ ملی ہو
سب سے بڑی دولت عقل ہے، سب سے بڑی محتاجی بیوقوفی ہے، سب سے بڑی وحشت غرور ہے اور سب سے بڑا جوہر خوش اخلاقی ہے
جب تم اپنے دشمن پر قابو پا لو تو اس کا شکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو
انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ (یعنی جب تک وہ گفتگو نہیں کرتا، اس کی قابلیت اور عیب چھپے رہتے ہیں)
"قرآنِ مجید اللہ کا ایسا عہد ہے جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے، یہ ایک ایسا قائد ہے جس کی پیروی باعثِ نجات ہے۔"
"جو شخص کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھوئے، وہ زندگی بھر خوشحال رہے گا اور رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا۔"
"اللہ نے شراب نوشی کی ممانعت کو (انسان کو) برائیوں اور گندگی سے پاک کرنے کے لیے مقرر کیا ہے۔"
"اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کو اپنے غضب سے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے۔"
"ہماری اطاعت نظامِ ملت کو درست رکھنے کا ذریعہ ہے اور ہماری امامت (مسلمانوں کو) تفرقے اور انتشار سے بچنے کا سبب ہے۔"
"اللہ تعالیٰ نے صبر کو اجر و ثواب کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔"
"عورت کے لیے سب سے بہترین شفاعت کرنے والا (اللہ کے نزدیک) اُس کا شوہر کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔"
"جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اس وقت اللہ سے خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور عطا کرتا ہے، اور وہ وقت سورج ڈوبنے (غروبِ آفتاب) کا ہے۔"
"اللہ نے جہاد کو اسلام کی عزت اور سربلندی کا ذریعہ بنایا ہے۔"
"اگر تم ہمارے حکم پر عمل کرو اور جس چیز سے ہم نے روکا ہے اس سے رک جاؤ، تو تم ہمارے (سچے) شیعہ ہو، ورنہ نہیں۔"
"ہم (اہلِ بیت) اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان وسیلہ (رابطہ) ہیں، ہم اس کے خاص اور چنے ہوئے بندے ہیں اور ہم ہی اس کی قدسیت کا مظہر ہیں۔"
"اللہ نے عدل و انصاف کو دلوں کے آپس میں جڑنے کا ذریعہ بنایا ہے۔"
"مومن کے چہرے پر مسکراہٹ (دوسرے مومن کو دیکھ کر) اسے جنت کا حقدار بناتی ہے۔"
"اپنی ماں کے قدموں سے چمٹے رہو، کیونکہ جنت وہیں ہے۔"
"عورت کے لیے بہترین بات یہ ہے کہ نہ وہ (غیر محرم) مردوں کو دیکھے اور نہ مرد اُسے دیکھیں۔"
"مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں محبوب ہیں: (1) تلاوتِ قرآن، (2) چہرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت، اور (3) راہِ خدا میں خرچ کرنا۔"
"جو شخص اپنی خالص ترین عبادت اللہ کی بارگاہ میں بھیجتا ہے، تو اللہ (اس کے جواب میں) اپنی بہترین مصلحت اس کے حق میں نازل فرماتا ہے۔"
"مہدی (عج) مجھ سے ہیں، وہ روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے۔"
"مہدی (عج) میرے اہلِ بیت میں سے ہوں گے... وہ زمین کو عدل و انصاف سے اُسی طرح بھر دیں گے جیسے وہ (پہلے) ظلم و جور سے بھری ہوگی۔"
"نبی اکرمؐ نے حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ اور ان کے بچوں (حسنؑ، حسینؑ اور زینبؑ و ام کلثومؑ) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: میں ان سے جنگ کروں گا جو ان سے جنگ کریں گے اور ان سے صلح رکھوں گا جو ان سے صلح رکھیں گے۔"
"حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں، اللہ اُس سے محبت کرتا ہے جو حسینؑ سے محبت کرے۔"
"فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔"
"میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔"
"جس کا میں مولا (مددگار/آقا) ہوں، اُس کے علیؑ مولا ہیں۔"
"تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا (اللہ) تم پر رحم کرے گا۔"
"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔"
"پہلوان وہ نہیں جو کشتی میں (دوسرے کو) پچھاڑ دے، بلکہ (اصل) پہلوان وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔"
"تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔"
"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔"
"تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اُس نے نیت کی۔"
"ظلم کرنے والا، ظلم میں مدد کرنے والا اور ظلم پر راضی رہنے والا، تینوں (ظلم میں) شریک ہیں۔"
"دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے، جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہرِ ہلاہل بھرا ہوتا ہے۔"
"لوگوں کے ساتھ اس طرح میل جول رکھو کہ اگر مر جاؤ تو وہ تم پر روئیں اور اگر زندہ رہو تو تمہارے ملنے کے مشتاق ہوں۔"
"مواقع بادلوں کی طرح گزر جاتے ہیں، لہٰذا بھلے کاموں کے مواقع کو غنیمت جانو۔"
"سب سے زیادہ عاجز انسان وہ ہے جو اپنے لیے دوست حاصل نہ کر سکے اور اُس سے بھی زیادہ عاجز وہ ہے جو بنائے ہوئے دوستوں کو کھو دے۔"